سالوں ساتھ رہ کر بھی کبھی اپنی نہیں ہوتیمردہ کرکے تن کو روح اک دن چھوڑ جاتی ہے بشر کی خصلتوں میں ہے کہ وہ کرتا ہے خواہشیںپر تمنا کی تمنا ہی دلوں کو توڑ جاتی ہے

سالوں ساتھ رہ کر بھی کبھی اپنی نہیں ہوتی
مردہ کرکے تن کو روح اک دن چھوڑ جاتی ہے

کسی کو دے کے پل بھر کی خوشی ہم لطف پاتے ہیں
کوئی مسکان ہلکی سی دلوں کو جوڑ جاتی ہے

گزر جاتے ہیں لمحے پر نہیں جاتیں کہیں یادیں
ذہن پہ دے کے دستک یاد اکثر دوڑ جاتی ہے

بشر کی خصلتوں میں ہے کہ وہ کرتا ہے خواہشیں
پر تمنا کی تمنا ہی دلوں کو توڑ جاتی ہے

دنیا کے خزانوں میں نہیں ہے کچھ بھی اپنا پر
ہوس دولت کی ہو تو جاں نچوڑ جاتی ہے

زندگی بھر زندگی سے شکایت یہ رہی مجھ کو
دکھا کے آپ رستہ پھر رستہ موڑ جاتی ہے

ُ ُسمَیّہ نیلوفر

The distance between you & me…

The distance between you and me
The distance of multiverse
Not just a universe away from me
You are galaxies away from me
The depth of all the oceans combined
The distance between you and me
I had to fly through Utopias
Just to reach out for your embrace
I had to witness all the
Heartbreaks in love stories of others
Held my heart tight at times,
Whispering don’t be afraid
I’m taking you home
Closed my eyes each time darkness engulfed
Had flashbacks of the glow of your face
To survive in storms
I felt your arms around me
The mere feeling had me at peace somehow
Conversations with stars about you
Told them about the shine of your beautiful eyes
Brown and lively
As beautiful as sunrise
Now that I am here
Ask me about my journey
I’ll tell, how hard it was
Where they all were warning me
Asking me to not go to far
Far away, so far I was
From my home
Never felt contented unless
I looked into your eyes
Had my gaze on your smile
Now that I’m finally here
I see you standing at the distance
Talking to your mates
Throwing your head back as you laugh
Now that I’m finally here
I want your eyes to lock gaze with mine
With recognition twinkling in them
And a small smile to let me know
That you’re happy that I’m here
“You thought I’d not come?”
“I thought you wouldn’t come.” You confirm my words with a faint smile.
“So you’re home now?”
“Not yet,”
And from some distance, you finally feel my presence
And look at me with those honey brown orbs
“I home now”

Why does it feel like my writing skills are getting worse by time:((

©SummiayaNiloferKichloo

//THREE STARS//

Sitting on the rooftop
Staring at the night sky
Oh my love,
You see the carpet filled with stars?
Look at the leading star
Shinging bright like the beautiful past
Tell me do you remember?
The good days of the start.
Oh my love,
Look the middle star
It’s shine
Not enough to light up the dark
Tell me what it looks like to you?
For it looks like to me
Like the uneven path
I struggled to get through
Without you,when you breathed last.
Oh my love,
Look at the last star
Standing out with its glistening light
Does it look any familiar to you?
Oh it does to me,
“Donot give up on the things you love”
Remember how you said this to me?
Leaving you was hard
But staying with you was harder
I had no other choice then letting go
When you left me here
Without saying goodbye
Your last words echoed in my ear
“You will make me proud”
I tried and tried
Not to fail you
And don’t think I ever stopped
Oh my love,
See where I am
Am I not like the third star?
standing out with my bright light
Tell me you see me
Tell me you recognised
From the skies above
I hear, you can see everything
Oh my love,
Tell me you’re proud
Tell me you’re happy
Oh my love,
Tell me you’re there
Watching me,my love✨

©SummiayaNiloferKichloo

اللہ اللہ ربی لا اشرک بہ شیئااللہ اللہ میرا رب ہے۔ میں اس کے ساتھ کسی کوشریک نہیں کرتی۔

‘اللہ اللہ ربی لا اشرک بہ شیئا
اللہ اللہ میرا رب ہے۔ میں اس کے ساتھ کسی کوشریک نہیں کرتی۔

یہ دعا پرییشانی میں، دل مضطرب ہو جانے کے لئیے ہے۔ اور دل کوتو ٹھہراؤ کا معلوم ہی نہیں ہے۔ مگر خیر۔ صبح اچھی ہو بھی تو رات تک کوئ نہ کوئ غم کھا رہا ہوتا ہے۔ سمجھ یہ نہیں آتی کہ اگر غم میں اللہ کو پکارا ہے اور سکونِ قلب اسکی عطا ہے تو پھر بار بار مجھ سے روٹھ کیوں جاتا ہے۔
دل ہر بات پر ضِد کرتا ہے۔ یہ ایسے کیوں ہے۔ یہ کمی کیوں ہے۔ یہ زیادتی کیوں ہے۔ فلاں کے پاس وہ سب ہے جو میرے پاس نہیں اور کوئ کمی نظر نہیں آتی۔ اللہ مجھ سے خوش کیوں نہیں ہے؟ اگر ہے تو مجھے ایسا کیوں نہیں لگتا۔ ایسے کیوں لگتا ہے باقی سب اللہ کو بہت پیارے ہیں اور ویسے ہی اچھے انسان بھی ہیں۔مجھے خود کے بارے میں تو کبھی ایسا نہیں لگا۔ توفیق کیوں نہیں ہوتی جبکہ مانگی ہے۔ دعائیں قبول کب ہوں گی۔ نہیں ہوں گی؟ دل محسوس کرنا کیوں نہیں چھوڑ دیتا اب تک تو اسے عادت ہو جانی چاہئیے۔ خواہشات کیوں ہیں۔ خامیاں ہیں بھی تو ظاہر کیوں ہیں۔ اللہ انہیں بھی اپنے رحم سے کیوں نہیں ڈھانپ لیتا۔ جب میں اتنے عرصے سے مضطرب نہیں ہوئ تو اب کیسے ہو گئ۔

یقین کیجئیے دل کو راحت نہیں ہے۔ اور کیسے ہو۔ دل خواہش کرتا ہے، ہم قربان کر دیتے ہیں یہ سوچ کر کہ اللہ قدر دانی کرے گا اور بہتر کرے گا۔ مگر پھر روز و شب مںں دل ایمان کی طرح کروٹیں بدلتا ہے اور ہم سکون اور اضطراب میں جھولتے ہیں۔ پھر حیران بھی ہوتے ہیں کہ پکار لینے کے باوجود سکینت نہیں ملتی کبھی تو کیا وجہ ہے۔ صبر ہم میں نہیں ہے۔ اور ہم اب تک جلد مایوس ہو جاتے ہیں۔ لیکن مایوسی سے بھی لوٹ کر رب کے پاس اس لئیے چلے آتے ہیں کہ اتنا سیکھ لیا ہے کہ صرف اسی کو فکر رہتی ہے۔ مگر زمین اور آسمان تنگ لگتے ہیں جب کبھی پکارنے کے بعد بھی کچھ دیر صرف کچھ پہر ہی سکون نہ ملے۔

اس وقت میں سوچ رہی ہوں ہم اتنے نااہل سے ہیں۔ اللہ کو صرف اللہ کے لئیے کب پکارنا سیکھیں گے۔ جب ہم پریشانی میں یہ کہتے ہیں کہ اللہ صرف رب ہے تو پھر سکون اور اطمینان کو کیوں مشروط رکھتے ہیں۔ یا دعا کی قبولیت کو پیمانہ کیوں بناتے ہیں۔ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ زمین و آسمان کے مالک کو جب ‘ربی ربی’ کہہ کر خود کو اس سے منسوب کر رہے ہوتے ہیں تو دنیا و ما فیہا سے کہیں بہتر ہمیں عطا ہو چکی ہوتی ہے۔ ہم غم میں شکر کرنا کب سیکھیں گے؟ ہم کب چھوڑیں گے اپنی خواہشات کا پیچھا، کب کریں گے وہ ایک سجدہ جس میں نہ دنیا، نہ آخرت نہ سکون نہ چاہت ہوگی۔ بس رب ہو گا۔
کسی دن اگر ایک بھی سجدہ ایسا نصیب ہوا تو دل کو آرام ہو گا، بہت۔ کیوں کہ لمحہ بھر کے لئیے اسے کوئ کام نہیں ہوگا۔ جب رب ہو گا تو رب کی شاید چاہت بھی نہیں ہو گی۔ کیوںکہ اللہ بہت بڑا ہے۔ اس کے خیال تک کو سموتے سموتے سارے خلیات شاید اتنے مصروف ہوجائیں کہ انہیں ہوش باقی نہ رہے۔ یوں لگتا ہے کہ اللہ کا صحیح معنوں میں لمحہ بھر کو بھی بندہ بننے کے لیئے مجھے فنا ہونا پڑے گا۔ کم از کم اس جہان میں، ایسی زندگی جس سے ہر وقت اپنا ہی نفس کھیلتا ہے نہ تو میں بندگی میں اور نہ ہی سکون میں ہوں۔ تعجب کی بات تو نہیں ہے اگر جنت میں جانا صرف اللہ کی عطا پر منحصر ہونا کہا جاتا ہے اور تعجب اس پر بھی نہیں ہے کہ جنتی بھی بہشت میں مکمل سکون میں تب تک نہیں ہوںگے جب تک اللہ کو دیکھ نہیں لیں گے۔
شراکت اسی دن ختم ہو گی۔
بندگی اسی دن شروع ہو گی۔

~ ُسمَیّہ نیلوفر ِکچلو

سیانی بھیڑ میں گم ہو جانا کتنا مشکل ہوتا ہےزندگی کو جی کے مرنے کا بھی تو غم ہوتا ہے وہ سامنے ہو تو بائیں طرف   کچھ مسئلہ ہوتا ہےاور تم کہتے ہو اس طرف ہمارا دل ہوتا ہے

سیانی بھیڑ میں گم ہو جانا کتنا مشکل ہوتا ہے
زندگی کو جی کے مرنے کا بھی تو غم ہوتا ہے۔۔

اچھا تم بتاؤ،ایک فیصد میں کتنا دل ہوتاہے؟؟
نہ چپ بیٹھو۔۔دل کے مسئلے کا بھی حل ہوتا ہے

خوف وحشت کا ہونا بھی وحشت میں ہوتا ہے
مجھے لگتا ہے انسان مجبور اخلاقاً ہوتا ہے

پہلے تو جملے سیکھو،کیسے اظہار کرنا ہوتا ہے
تم مجھے عزیز ہو، اب اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟

حالات کی ناسازی سے پہلے بھی بندہ تنگ ہوتا ہے
مایوسیوں کے بھنور میں کون اپنا سگا  ہوتا ہے؟؟

گزرا وقت ایک خواب اور ادھورا گھر ہوتا ہے
اب مجھ کو خزاؤں کے جانے کا بھی ڈر ہوتا ہے

وہ سامنے ہو تو بائیں طرف   کچھ مسئلہ ہوتا ہے
اور تم کہتے ہو اس طرف ہمارا دل ہوتا ہے

خدا سے امید لگائے رکھنا کا بھی ہنر ہوتاہے
جہاں ہر بند دروازے سے اگلا کھلا ہوتا ہے

رزق کے مسلئے سے ہی ہاتھ سے قتل ہوتا ہے
اڑتے ہوئے ذروں کا بھی تو کوئ  گھر ہوتا ہے


اکثر باتوں کو شعروں میں لکھنا مشکل ہوتا ہے
اچھی غزلوں کے شعروں کو کیسے لکھنا ہوتا ہے؟

آ سمان کو تکتے رہتے ہو۔۔کیا یہاں خدا ہوتا ہے؟
تم پاگل ہو “عمل” خدا تو اپنے گھر میں ہوتا ہے۔

      
             ُسمَیّہ نیلوفر ِکچلو 

(عمل)

Let’s Pretend to be Humans!

Skin so cold, do the blood even flow
In your veins I’ve been wonderin’
The lashes they tell a mesmerizing story
The eyes having a different kinda glow.

Am I imagining things on my own
Or are we really dancing through the night
On the bridge above the waters
Who’s just about to fall.

That vampiric coldness surrounding us
No unicorns No cloud 9 No rainbows
Talking about life in the dark night
Countin’ the oceanic stars from 1 to 109

Let’s walk together through the thick and thin
Depend on me for the cold kinda warmth
Life’s hard, let us not fall apart
Let’s not lose the crazy rhythm we together created.

©SummiayaNiloferKichloo

تحریر : اچھی لڑکی ✨

” آپی ۔۔۔۔ “ آہستہ سی کہتی ماہین کتاب پڑھتی عمارہ کے پاس ہی لکڑی کے بنے چھوٹے سے پلنگ پہ بیٹھ گٸ تھی ۔
” ہممم “ کوٸی خاص توجہ نا دیتی عمارہ اب بھی کتاب کی طرف متوجہ تھی ۔ اک نظر اٹھا کر بھی اس نے ماہین کو دیکھنا گورا نہیں کیا تھا ۔
” میری بات سنو ناں آپی ۔۔ “ دونوں ہاتھوں سے عمارہ کو تھامے ماہین نے اپنی طرف متوجہ کیا تھا ۔ جب کے گھر کے باقی افراد اپنے اپنے کمروں میں رات کے پہر آرام کر رہے تھے ۔
” آپی مجھے ناں علی بہت بہت مطلب بہت ہی زیادہ پسند آنے لگا ہے “ چہرے پر کھلتی مسکراہٹ سجاۓ ماہین نے چہکتے ہوۓ کہا ۔
عمارہ خاموشی سے کتاب ساٸید پر رکھے بغیر کسی تاثر کے اسے دیکھ رہی تھی۔ کچھ ہی لمحے کے وقفے بعد اس نے پیار اور شفقت سے ماہین کا چہرہ تھاما تھا ۔
” اچھی لڑکیاں ایسے نہیں کہتی “ اب بھی کسی تاثر کے بغیر عمارہ اسے سمجھاتی جارہی تھی ۔
” اچھی لڑکیوں کو سانس بھی لینے کی اجازت ہے آپی؟ یا لوگوں کے خوف سے سانس بھی روکے مر جاٸیں وہ؟ دماغ کی کوک میں جنم لیتے خواب بھی جلا دیتی ہیں ناں اچھی لڑکیاں۔ دل پتھر کر لیتی ہیں ۔ خواہشات مار کر زندہ لاشوں کا روپ دھاڑ لیتی ہیں ناں ۔ اچھی لڑکیاں ہیں ناں آخر “ طنزیہ لہجہ میں کہتی ماہین حیرت سے ہنسی تھی ۔ عمارہ کی بات سے اسے تکلیف پہنچی تھی ۔
” آپی محبت کب غلط ہوتی ہے ؟ ہاں ہمارے اظہار کے طریقے غلط ہوتے ہیں ۔ ہمارے انداز غلط ہوتے ہیں ۔ ہماری حدود غلط ہوتی ہے “ عمارہ کا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹاۓ ماہین آہستگی سے بولی تھی ۔ جبکہ عمارہ اسے خاموشی سےسننے میں مگن سی معلوم ہورہی تھی ۔
” محبت کو شفاف ہے انمول سی ، کسی چہکتے موسم سی جو ویران آنگنوں میں بھی چھاۓ تو قوس قزح کے دلکش رنگ بکھیر دے ۔ جو جانوں میں روح پھونک دے ۔ محبت شفاف ہے آپی “ اپنی بات مکمل کرتی ماہین سونے کے لیے خاموشی سے اٹھ گٸ تھی ۔۔
ختم شد ❤
اپکی راۓ اور محبت اپکی نظر میں کیا ہے ؟ ❤

©SummiayaNiloferKichloo

THE SKY IS FEELING BLUE

The wandering soul of the living dead
Traverses upon the glory he was fed
The pride that was scripted in red
Now lying among a flower bed.

The petals of the worn out black roses
The daisies and the violets
Now pave way for mourning, tribute and respect.

In the battlefield the soul walks
Upon the remnants of war he immerese
O heart! O heart! Rise and shine
For your mother calls from her little cottage in Columbine.
The wife awaits eagerly with red wine and fine dine
But, the glory of death perhaps justifies.

The prejudice curtained from all
Veiled and shrouded which you took alone
Dear, oh dear! Its gone!

The cap lays still
The tourniquets now maroon red
What do you feel? When I say he was better alive than dead?

What did war bring thee?
Where is its glory? The might of its symphony?
What a phony fit of glory! What a tragic fallacy!

O soul! O soul! I cry to thee
Rise up! Rise and shine for atleast you are set free!
Roam the pavilion of our glee
Where we dance to the tranquil trill of heavenly harmony
Fly and spar high
For your spirit shall never die

In my poem I’ve given you existence
Soldier, you deserve more than virtue and patience.
Accept the salutations! Accept the praise!
Look, there is a proud smile on your mother’s face!
A hero has entered the hearts
A story to cherish even a thousand year apart.

Bon voyage o sailor of the 7th sea!
We shall meet in a greater grandeur I plea.

©SummiayaNiloferKichloo

How does it feels running away from me?

how does it feels running away from me? the voice was echoing around my ears, so loud that the windows broke into peices carving a name on my hand with the blood of the birds who once chirped glee outside my elysium,
‘who are you’ i asked in amazement, ‘this is your melancholy speaking’,
‘mine?’ i wondered,
‘remember when we first met?’ it continued after a brief pause in the room which was howling over my head, couldn’t believe my ears and eyes that it was the same heaven which was my happiness,
‘no’ I replied, ‘let’s rewind the old times’ it said,
‘remember when you were just a kid, from being a blessing your mother had in her arms to growing up as a loner, i knew misery was what lives inside you and it always will, i decided to be friend with u, you always has been a loner, are you still a misanthrope little one?’ it asked after litting the fire once again in my heart,
‘no!’i replied all vexed by anguish,
‘so you still run away from your reality’ it sighed,
‘burning from rage i claimed ‘this is my reality, I’ve got everything i ever wanted, you don’t exist, all it could be is just a bad dream’
the voice chuckled and cracked a sound so thin that i couldn’t feel my ears and vanished all of a sudden, felt like it had more to say, i still wonder why i didn’t woke up yet.

_SummiayaNiloferKichloo

//Self realisation//

//Self Realization.
Most people love to sleep. You know why? Because sleep is actually an escape from the reality, from our problems ! Thats why everybody love sleeping, its proof is when our alarm rings we press the snooze button just to have some minutes more for this escape. In sleeping state we are with our orignial source , a state resembling the universe, a state in which we are with us instead of wandering in thoughts or comparing us with anything , it is an emerging state with the universe. But as soon as we wake up that word of “I” also wakes along with us, “A SENSE OF SELF”, but in reality this “SENSE OF SELF” is nothing but an identity of the body we carry everywhere and this identity is called EGO . So the time we identify ourself with our body is the real root cause of all the problems. For the solution of these problems we don’t need to go anywhere , we just have to look inside our own self and when we look we’ll always see that there is a contradiction going on in our mind , an opposition to what a thing actually is and what we want instead so there is always a conflict in our mind that causes stress. Stress is all about conflict. So the EGO ( I and you) this creates a division between people and you, universe and you, God and you, just simply divides you from everything . On the other hand while sleeping this division line can’t exist, that is why we feel peaceful while sleeping. It shows peace comes when we escape from our own self, freedom from the fake world that we created inside of us, freedom from the concept of separate identity and then we are ONE WITH THE WHOLE. So why not we think to make this thing applicable while we are awake. Just leave behind the sense of self and that ego and experience yourself as universe. The tree , wind, clouds everything will feel like a part of us , in other words a beginning of SOLITUDE, base of a peaceful life! There is no separate self it is just an illusion and we are living in illusion. When you get yourself out of this illusion, thats how you are away from yourself but connected to the whole. The removal of that ego(I and you) let us see every little leaf to every person around us as US. Experience this oneness. Thats how You no longer are limited to you, you are infinite and there is no way to make infinite sad and no way to make finite happy !!! ” sense of self ko jitna bhi mil jye kam pr hee jata hai naa”
▪’Don’t feel lonely , the universe is inside you’~Rumi.
▪’You are not a drop in the ocean , you are the ocean in a drop’ ~Rumi.

©SummiayaNiloferKichloo